Boycott

 *اسرائیل پروڈکٹ کے بائیکاٹ کی  صورت ہونی چاہیے*


مزمل حسین شیخ ، پونہ مہارشٹرا 


اسرائیل اور فلسطین جنگ کے تحت ہر کسی کے ذہین میں ہے کے اسرائیل اور اسکے امداد کرنے والی کمپنیوں  کے  پروڈکٹ کا بائیکاٹ ہونا چاہیے اور کچھ حد تک ہو بھی رہا ہے. پر اس میں کچھ خاص باتیں قبل غور ہیں جنکو سامنے رکھنا ضروری ہیں . کچھ لوگ کہتے ہیں کے پہلے متبادل دیا جائے پھر بائیکاٹ کی بات ہو اور کچھ بنا سوچے سمجھے بائیکاٹ کی بات کرتے ہیں.

اس میں کچھ باتوں کو ذہین میں رکھنا ضروری ہے .

سب سے پہلے یہ ذہین میں ہو کے بائیکاٹ کی بات صرف چند دن کا جوش اور ولولہ نہ ہو . ایک سوچی سمجھی پلاننگ کے ساتھ بائیکاٹ کیا جائے اور ہمیشہ کے لئے بائیکاٹ کیا جائے.


 بائیکاٹ کی لسٹ میں کل ملا کے ٣ طرح کے اشیا ہیں .

١. وہ اشیا جنکا صحت پر نقصان کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہےاور یہ چیزیں نہ زندہ رہنے کے لئے ضروری ہے اور نہ ہی  ضروریات زندگی میں  شامل ہیں  . جیسےسوفٹ ڈرنکس ، پیپسی، کوکا کولا. برگر مکڈونلڈ کے .یف .سی وغیرہ . چپس (لیز)، میگی  نوڈل  انکا تو ابھی سے اور آج سے ہی بائیکاٹ ہونا چاہیے. 

٢. وہ اشیا جو ضروریات زندگی میں آتی ہیں جیسے کپڑے دھونا کا پاؤڈر ، ٹوتھ برش .بچوں کے  ڈائپر. ٹی .وی چینل . چاکلیٹ تو انکا متبادل تلاش کیا جائے.

٣. وو اشیا جو جنکا متبادل فلحال ممکن نہیں ہے پر اس پر سوچنا ضروری ہے جیسے وہاٹس اپپ ، فیس بک ، گوگل، موبائل فون وغیرہ . تو اس پر دانش وروں کو سوچنے اور پلان بنانے کی ضرورت ہے کے آنے والے ١٠-٢٠-٣٠ سالوں میں ہم اسکا متبادل کیسے تیار کر سکتے ہیں تاکے کم از کم مسلم عوام تو اسکا استمال کرے.


اس طرح ترتیب وار اور سوچی سمجھی پلاننگ کے ساتھ بائیکاٹ ہوگا تو اسکا اثر دکھایی دیگا اور عوامی سطح سے رد عمل جاےگا . ورنہ ماضی کے واقعات سے تو یہ ثابت ہوا ہے کے بائیکاٹ کی بات صرف چند دن چلتی ہے پھر ہم ایسے بھول جاتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا .


الله ہمیں بائیکاٹ کی نیت پر ثابت قدم رکھے .الله عمل کی توفیق عطا فرمایے . آمین

Comments

Popular posts from this blog

Ladies Prayer Arrangement - Pune

Collection of Fatwa - Save Income tax in India

5-10 Year Strategy for Social, Religious and Economic Development of Indian Muslims