Juma byan topics
*ہندوستان میں مسلمانوں کے کچھ مسائل جنھیں جمعہ کے بیانات, تحریر, سوشل میڈیا اور ہر ممکن ذریعے سے امت کے سامنے لانے اور حل کرنے کی ضرورت ہے۔*
بیانات کے عنوانات مین رواجیت سے آگے بڑھ کر حقیقت اور کامن سینس پر آنے کی ضرورت ہے. امت میں اج بھی دین کی محبت باقی ہے. اسی لئے تو ان ہزاروں مساجد اور مدارس کو چندہ دیتی ہے اور مساجد ہماری کسی درجہ میں کیوں نہ ہو, کچھ حد تک تو اباد ہے. اب مسئلہ انکے مسائل کو سمجھ کر اس پر بات کرنے کا بھی ہے. ذیل میں اسے بات پر کچھ عنوانات ذہن میں ہیں.
1. اسلام میں جائیداد کی تقسیم. اسکے فضائل اور وعید. اسکے صحیح نہیں ہونے کی وجہ سے کورٹ کیس اور رشتے داروں میں قطع تعلق اور بنک لون۔ سالوں سال گزر جاتے ہیں لیکن اتنا بڑا مسئلہ جسکو اللّٰہ نے نماز سے بھی زیادہ کھول کے بیان فرمایا، ہمارے بیانات سے غائب ہے۔ حلانکہ حدیث میں اسکو ادھا علم بتایا گیا.
2. والدین کے لئے ہدایات کہ ان کے بچوں کے لئے مثالی والدین بننے کے لئے کیا کرنا چاہیے. بچوں کی ذمہ داری اسکولوں، مدرسے یا کیسی جماعت پر نہیں ہے. ماں باپ کو بچوں کا دوست بننے کی ضرورت ہے۔ ماں باپ یا تو بچوں کو بلکل فری چھوڑ دیتے ہیں یا بلکل سخت ہیں۔ کوئی بچہ پیدائشی ماں باپ کا نافرمان پیدا نہیں ہوتا۔
3. انٹرنیٹ کے استعمال - ننگی فلمیں اور پورنوگرافی کے استعمال میں 75 فی صداضافہ ہوا ہے کیونکہ جیو نے مفت انٹرنیٹ شروع کی ہے. اس میں مشت زنی بھی شامل ہے.
4. بھارت بھر میں مسلم علاقوں کی شناخت یہ ہے کہ وہ بہت گندی ہیں اور یہ سچ ہے. لوگ سڑک پر گندگی پھینک دیتے ہیں. اور ہماری گوشت کی دکانیں گندی ہیں. گوشت کی دکانوں کے مالکان سڑکوں پر خون کے پانی کو پھینک دیتے ہیں. اور ان کو کچھ بولنے پر سامنے سے ایسا رویہ ہوتا ہے جیسی آج بھی ہمارے باپ دادا کی ہی حکومت ہے.
مسجد کے طرف تعلیم یافتہ اور صفای پسند لوگوں کو متوجہ کرنے کے لئے، ہمیں مسجد کے طہارت خانہ، بیت الخلاء کو صاف اور بدبو سے پاک رکھنے کی ضرورت ہے. آج بھی جو تھوڑے دین سے دور مسلمان ہیں وہ مسلم علاقوں میں اسی لئے رہنا پسند نہیں کرت اور جو رہ بھی رہے ہیں, وہ چھوڑ کر جانے کی جستجو میں ہیں.
5. ہمارے اسکول اور کالج یَہُود و نَصاریٰ کے اسکولوں سے مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہیں. ہر شہر میں کئی دہائیوں سے کرسچن مشنری کے اسکول چل رہے جن میں داخلہ لینا ایک فخر کی بات سمجھی جاتی ہے اور حال یہ ہے کہ مسلمان مینیجمینٹ اسکول ٹئچر کے بچے ان اسکولوں میں جاتے ہیں. اسکی وجہ اندرونی سیاست, موروثی نظام, چند زبردستی مسلط شدہ لالچی عہدہ دار اور استاد کی کم تنخواہ اور نئی ٹیکنولوجی کا استعمال نہیں کرنا ہے.
6. لوگ حج اور عمرہ سے ایک سے زیادہ مرتبہ جاتے ہیں. اور حرمین شریفین کو فوٹو اسٹوڈیو بنا دیا ہے لیکن ان کے اپنے خاندان میں غریب لوگ ہیں.
7. بیوہ اور طلاق شدہ کا دوسرا نکاح ابھی تک ایک بڑا مسئلہ ہے.
8. قرآن اور سیرتِ کو کس طرح سمجھیں. کونسی تفسیر اور سیرت النبی کی کتاب پڑھیں۔ اور والدین کی طرف سے ہر گھر میں بچوں کے لئے قرآن سیشن. امت کے ایک کثیر تعداد طبقے کو 10؛یا اس سے بھی کم سورتیں یاد ہے اور انکے تفسیر کا تو پوچھیے ہی مت۔ امت علماء سے قرآن پڑھ کر کچھ نیکسٹ لیول کے سوال کرے نہ کہ وہی گھسے پٹے پرانے سوالات کہ ناخن کب کاٹنا ہے, پیشاب کی قطروں سے نماز ہوگی کیا, غیر مسلم کے سلام کا جواب دے سکتے کیا روزہ کی حالت میں تیل لگا سکتے کیا وغیرہ وغیرہ.
9۔ مسلم تاجر کو ہدایات ، وقت کی پابندی، بات میں سچائی اور بات میں نرمی, تقدیر پر صحیح ایمان اور ناپ تول میں کمی. اللہ نے خود اس بات کو اتنی اہمیت دی کہ ایک سورہ کا نام ہی اسی عنوان پر دیا, مطففین
10۔ پیسہ ادھار لین دین میں لوگوں میں وعدہ خلافی۔ اور اسکے نقصانات مدد کرنے والوں کے ذہن پر. حلانکہ کی قرآن کی سب سے بڑی آیت سورہ البقرہ کی آیت نمبر ,282 پر بیان کی ضرورت ہے. شاید ہی ایسا کوئی ہو جس کے ساتھ قرض میں دھکا نہ ہوا ہو. اور کچھ دھوکے باز تو دین کا لبادہ پہن کر اتے ہیں اور دین کی میٹھی میٹھی باتیں بھی کرتے ہیں.
11۔ گٹکھا تمباکو نوشی اور ڈرگس کا نوجوانوں میں استعمال۔ مال کی بربادی, خاندانون کا برباد ہونا اور خطرناک جان لیوا بیماریاں۔ افسوس کہ بات ہے کہ ان سب نقصان کو سامنے رکھتے ہوئے ہمارے علماء اسکی تجارت کی اجازت دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ صرف مکروہ ہے. نوجوان لڑکوں کا گاڑی کے سالینسر توڑ کر گاڑی کی آوازیں کرتے گھومنا۔
12۔ مسلمان محلوں میں دیر رات جاگنے اور صبح دیر سے اٹھنے کی عادت۔
13. دار القضاء کیسے کہتے ہیں، اسکی معلومات عام کرنا۔ حال تو یہ ہے کہ امت کی دیندار اکثریت کو آج بھی اسکا مطلب تک نہیں معلوم. امت کے عائلی مسائل دار القضاء میں نہیں اتے ہیں اور کورٹ میں جاتے ہیں جس سے پھر ٹرپل طلاق جیسی معاملوں میں میڈیا میں ایک مذاق سا بن کر رہ جاتا ہے.
14. مسجدوں میں 5 مینٹ کے لیے بھی آنے والوں کے قرآن اور ضروریات کا دین سیکھانے کی ترتیب قائم کرنا۔ جمعہ میں آنے والے 70 فی صد سے بھی زائد مجمعے کی نماز تک صحیح نہیں۔ پیاسا مسجد تک آگیا ہے اب اور کب تک مثال دی جائیگی کہ پیاسا کنویں کے پاس آئے؟ باطل کا حال تو یہ ہے کہ وہ اپنی دعوت کو آسان بناتے بناتے موبائل کی شکل میں لوگوں کی جیب تک پہنچ چکا ہے اور ہم ابھی بھی پیاسا اور کنواں کا کھیل کھیل رہے ہیں.
15. شادی کے بعد اکثر لڑکی والوں کی طرف سے جھوٹے کورٹ کیس میں امت کا جو نقصان ہو رہا ہے اسے کیسی مسلم وکیل کے ذریعے سامنے لانا۔ 498a and DV
16. مسجد کے باہر اور سڑکوں پربیٹھنے والے بھکاریوں کو بلا تحقیق پیسے دینا۔ حلانکہ انھیں بھیکاریوں کے بازو میں ایک غیر مسلم غریب محنت کر کے کماتا ہے. امت میں ایزی منیeasy moneyکا مزاج بن چکا ہے اور محنت کرنا چھوڑ چکی ہے.
17. مساجد کے ٹرسٹی اور امام کے درمیان کے جھگڑے اور نا اتفاقی کی کوی حد نہیں۔ اسکے لئے بڑے بڑے علماء کیا کر رہے ہیں؟ کیا صرف سوشل میڈیا پر کچھ لکھ یا بول دینے سے یہ مسئلہ حل ہوگا؟ اس مسئلے کی وجہ سے قابل امام نہیں مل رہے اور اجکا امام انسان کم ایک روبوٹ زیادہ دکھتا ہے جسے کچھ نیا کرنے کو کہا جاۓ تو جی چراتا ہے.
مسجد کے امام کی بھی کیا زمہ داریاں ہیں. کیا نماز پڑھا کر مصلیوں سے انجان بنے رہنا ہے یا انھیں سکھانا بھی ہے؟ حال یہ ہے کہ لوگ مسجد اتے ہیں, نماز پڑھتے ہیں اور غلط پڑھتے ہیں پر امام کو کوئ پروا نہیں. پیاسا کنویں کے پاس آتا ہے یہ مثال ایک نبی کا وارث ہونے کے باوجود دینا کتنی درست ہے؟
18. ایک حاملہ عورت اپنا حمل کا وقت کس طرح گزارے جس سے انے والی نسل ایک اچھی ذہین انسان اور مسلمان بنے. اور اس پر دھیان نہیں دینے سے کیا نقصان ہوتا ہے. یہودیوں کے یہاں با قاعدہ اسکا نظم ہے.
19. جوائنٹ فیملی سسٹم آج ایک جھگڑے کی شکل اختیار کر چکا ہے. اسلام اسکے بارے میں کیا کہتا ہے.
20. ٹی وی چینل اور انٹرنیٹ کی وجہ سے ایک ذہنی ارتداد عام ہو چکا ہے. کچھ چند سوالات ہیں جنھیں باطل استعمال کرتا ہے. ان پر مدلل جواب دینے کی ضرورت ہے تاکہ کم از کم ہمارے لوگوں کو تسلی بخش جواب ملے. باطل کا تو حال یہ ہے کہ اسے ایک سوال کا جواب دو تو دوسرا حاضر کرتا ہے. اسکے سوال پوچھنے کی نیت ہی ہماری قوم کو شک و شبہ میں ڈالنا ہے.
21. علم کی تفریق. دین کا علم الگ اور دنیا کا علم الگ. اس ذہنیت نے دو ایسے گروہ بنا دیئے ہیں جو دوسرے کی بات تک سننے تیار نہیں ہے. اور دوسرے کو حقیر سمجھتا ہے.
22. ہندوستان میں اکثریت ہندو کےساتھ رہتے رپتے اقلیت مسلمانوں پر اکثریتی طبقے کے بہت سارے عقائد اور رسومات شامل ہو گئے ہیں. جیسے سات جنم کا عقیدہ, جہیز, شادیوں میں ہلدی کی رسم, عورتوں کو میراث سے محروم کرنا, دیور بھابھی کا بے تکلف ہونا, اپنی مذہبی کتابیں نہ پڑھنا اور بھی بہت کچھ. ان تمام باتوں پر امت کی رہبری کی ضرورت ہے.
23. مہنگی شادیاں اور انٹرنیٹ کے ذریعے عام ہو رہا سستہ زنا
24. شادی کے رشتے جوڑنے میں غیر ضروری باتیں اور رسومات.
25. برادری سسٹم ایک ایسا ناسور بن چکا ہے جسکی چپیٹ میں اچھے خاصے دیندار دکھائی دینے والے بھی ملوث ہیں. اسکی سب سے بڑا نقصان شادی رشتے میں ہو رہا ہے.
مسائل تو اور بھی ہیں, بس ایک نظر چاہیۓ جو رواجیت کا چشمہ اتار کر دیکھے. ورنہ حال تو یہ ہے کہ جو چل رہا ہے وہی ٹھیک ہے.
مزمل حسین شیخ, پونہ مہاراشٹر
+919226443177
Comments
Post a Comment