ہندوستان کی مساجد میں خواتین کے لیے انتظامات، موجودہ صورتحال اور حل*
*ہندوستان کی مساجد میں خواتین کے لیے انتظامات، موجودہ صورتحال اور حل* ہندوستان میں مساجد میں خواتین کے داخلے اور ان کے لیے نماز کے انتظامات ایک نہایت حساس، متنازع اور بعض اوقات ممنوع سمجھا جانے والا موضوع بن چکا ہے۔ کئی علاقوں میں اس پر کھل کر بات کرنا بھی معیوب سمجھا جاتا ہے، حالانکہ یہ مسئلہ دینی، سماجی اور اصلاحی پہلوؤں سے سنجیدہ غور و فکر کا تقاضا کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان میں بہت کم مساجد ایسی ہیں جہاں خواتین کو نماز ادا کرنے کی اجازت حاصل ہے، اور اگر کہیں اجازت ہے بھی تو ان کی تعداد نہایت محدود ہے۔ اس کے برعکس، قرآنِ مجید یا احادیثِ نبوی ﷺ میں کوئی واضح حکم موجود نہیں جو خواتین کو مسجد میں آنے سے روکتا ہو۔ بلکہ جس دور میں بیٹیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا، اسی دور میں رسولِ اکرم ﷺ نے عورت کو عزت، مقام اور حقوق عطا کیے۔ آپ ﷺ نے خواتین کو مسجد میں آنے کی اجازت دی، انہیں نکاح میں اپنی مرضی کا حق دیا، مہر کو ان کا حق قرار دیا، جائیداد میں حصہ دیا اور حتیٰ کہ ناچاقی کی صورت میں علیحدگی (خلع) کا حق بھی عطا فرمایا۔ ہندوستان میں ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ بڑی تعداد میں مسلمان خواتین...